شبِ فراق کٹی ہے، مگر حنوز وہیں دلِ حزیں کو تری یاد کا سہارا ہے نظر سے اوجھل سہی، پر روح میں بسے ہو تم ہر ایک لمحہ تری دید کا نظارہ ہے نہیں ہے تابِ جفا، نہ تابِ رنجِ ستم بس اک تری الفت ہی اب کنارا ہے یہ چاند تارے، یہ روشن فلک، سبھی بیکار جہاں نہ ہو تو، وہ دوزخ کا اشارہ ہے
Free Urdu Shayari Generator
Classical-style Urdu shayari with rich, poetic language.
Examples generated using AI · Reviewed for quality
Examples
ترا جمال کہ ہر ذرہ آفتاب لگے ترے رخسار پہ وہ نورِ ماہتاب لگے نگاہِ مست سے جب تو میری جانب دیکھے ہر اک غمِ دوراں مجھے خواب لگے یہ تیری زلف کی خوشبو، یہ تیری باتوں کا سحر مرا دل اسیر ہوا، کیا جواب لگے؟ تری ہر ادا میں پنہاں ہے اک جہانِ وفا تری ہر جنبشِ پلک، مجھے کتاب لگے
حیات کیا ہے، اک سراب یا کوئی افسانہ زمانہ کیا ہے، اک سیلاب یا کوئی ویرانہ کہاں ہیں وہ منزلیں، جو ڈھونڈتے پھرتے ہیں ہر ایک راہ میں پنہاں ہے کوئی بے گانہ فنا کی دھوپ میں جلتے ہیں یہ وجود کے خیمے بقا کی بات نہ کر، یہاں ہر شے ہے فنا یہ کائنات کا راز، اک گتھی ہے سلجھانے کو مگر ہے کون، جو سمجھے یہ فلسفہ
طلب ہے بس تری، اے دلبرِ حقیقی ہر اک سانس میں ہے تیری ہی بندگی یہ دنیا، یہ محفلیں، سب فریبِ نظر سکونِ قلب ہے تیری جستجو میں زندگی نہ چاہیے تخت و تاج، نہ شاہی و لشکر تیرے در کا گدا ہونا ہی ہے میری بندگی یہی ہے راہِ فلاح، یہی ہے منزلِ یقین تیری یاد میں گزری ہر شامِ عاشقی
عجیب رنگ ہے اس دورِ پر فریب کا ہر ایک شخص یہاں خود میں ہے لاجواب سا مروتیں ہیں کہاں، اخوتیں ہیں کہاں ہر ایک تعلق ہے اک خواب سا یہ شہرِ وفا میں وفا کی قحط سالی ہر دل ہے یہاں اک بوجھِ بے تاب سا جو دیکھو غور سے، تو نظر آئے گا ہر چہرہ ہے یہاں اک نقاب سا
شامِ غم ہے، دلِ حزیں کی خموشی ہر سو پھیلی ہوئی ہے اک مایوسی چاند تاروں کی محفل بھی افسردہ ہے جیسے کھو گئی ہو اپنی کوئی ہنسی فضا میں گونجتی ہے یادِ رفتگاں ہر ایک صدا میں ہے درد کی سرگوشی کاش کوئی آئے، اس دل کو بہلائے رات بیت جائے، ملے کوئی دلجوئی
اندھیروں میں بھی اک روشنی کا اشارہ ہے کہ ٹوٹے دلوں کو بھی اب کوئی سہارا ہے یہ کیا کم ہے کہ ہم نے جینا سیکھ لیا ہر اک زخم نے ہمیں اک سبق سکھارا ہے فراقِ یار کا غم بھی اک انمول خزانہ کہ اسی درد میں پنہاں، کہیں گزارا ہے مت سوچو کہ منزل ہوئی ہے ناپید تلاش جاری ہے، ابھی نہارا ہے
مرے دردِ دل کی زباں نہ پوچھو تم جو دل میں ہے پنہاں، وہ بیاں نہ پوچھو تم قلم سے نکلے ہیں جو آنسوؤں کے قطرے ان لفظوں میں پنہاں، وہ گراں نہ پوچھو تم میں نے لکھ ڈالی ہے ہر اک داستانِ غم میری شاعری کا اب جہاں نہ پوچھو تم یہ میرا فن، یہ میرا ہنر، میرا جنون اس کے پیچھے کی داستان نہ پوچھو تم
وہ گزرے ہوئے لمحے، وہ حسین یادیں دل میں اب بھی بسی ہیں وہ فریا دیں زمانہ بدل گیا، لوگ بھی بدل گئے مگر نہ بدلی وہ پرانی رتیں، وہ آبادی کاش لوٹ آئیں پھر سے وہ عہدِ رفتہ جہاں ہر دل میں تھی سچائی اور سادگی کہاں تلاش کریں اب وہ پرانی محفلیں بکھر چکی ہیں وہ ساری داستانیں
غموں کی دھوپ میں بھی مسکرانا سیکھ لیا ہر ایک درد کو اپنا مقدر جان لیا نہیں شکوہ اب کسی سے، نہ کوئی گلہ ہے جو رب نے دیا، اسے بخوشی مان لیا یہ زندگی کی کٹھن راہیں، یہ آزمائشیں انہی میں چھپا ہے کوئی انعام، پہچان لیا نہ خوفِ فنا، نہ فکرِ بقا اب ہمیں ہم نے خود کو، فنا میں، بقا جان لیا